30 مارچ 2016 - 11:51
لاہور واقعہ نے عالم انسانیت کے دل دہلا دئے: ڈاکٹر فاروق عبد اللہ

انہوں نے کہا کہ لاہور کے واقعہ نے عالم انسانیت کے دل دہلائے دیئے، جس میں معصوم بچوں اور خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ’’بھارت ماتا کی‘‘ نعرہ لگانے پر زور و زبردستی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہندوستان کے زیر اہتمام ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جو اپنی مرضی سے یہ نعرے دینا چاہتا ہو، وہ شوق سے دے اور اپنی حب الوطنی کا مظاہرہ کریں، لیکن کسی کو یہ نعرے لگانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ ان باتوں کا اظہار جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر  ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج نوائے صبح کمپلیکس سرینگر میں ایک پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ آر پار جموں و کشمیر کو جوڑنے والے تمام راستوں کو کھول کر لوگوں کی آواجاہی آسان بنائے تاکہ آر پار پچھڑے ہوئے کشمیری ایک دوسرے کے ساتھ پھر سے ماضی کی طرح گُل مل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کا کوئی متبادل نہیں۔ دونوں ممالک کے روشن مستبقل کا راز دونوں پڑوسیوں کے مضبوط رشتوں، پکی دوستی اور دیرپا امن میں ہی مضمر ہے۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندستان اور پاکستان کے پاس آپسی مسائل کو حل کرنے کیلئے بات چیت کے سوا اور کوئی راستہ نہیں، دونوں ممالک نے 4 جنگیں لڑیں، ایک دوسرے کیخلاف دشمنی رکھی، الفاظی جنگیں لڑیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوا، الٹا حالات مزید ابدتر ہوتے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے کروڑوں لوگوں کی خوشحالی، تعمیر و ترقی اور دونوں ممالک کے آزادی صرف اور صرف دوستی سے ہی قائم و دائم رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ عدم تشدد اور بات چیت کے ذریعے ہی دنیا میں بڑے بڑے مسائل کا حل نکالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے امریکہ، برطانیہ اور یورپ، افریقہ اور عرب ممالک اور کئی مسلم ممالک کا دورہ کیا اور وہاں کے سربراہوں اور مسلم لیڈران سے ملاقات کی اور انہیں اپیل کی کہ وہ ایک جُٹ ہوکر ایسے عناصر کیخلاف صف آراء ہوجائیں جو اسلام کے نام پر تشدد کے ذریعے انسانی خون بہا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کے واقعہ نے عالم انسانیت کے دل دہلائے دیئے، جس میں معصوم بچوں اور خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ریاست میں بھی کافی خون بہایا گیا، بستیوں کی بستیاں اُجاڑا گیا، افسپا اور دیگر کالے قوانین کی آڑ میں نوجوانوں کی نسل کشی کی گئی۔ ہم نے اُس وقت بھی عدم تشدد کی وکالت کی تھی۔ بھارت ماتا کی جے نعرہ لگانے پر زور و زبردستی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جو اپنی مرضی سے یہ نعرے دینے چاہتا ہو، وہ شوق سے دے اور اپنی حب الوطنی کا مظاہرہ کریں، لیکن کسی کو یہ نعرے لگانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں زور و زبردستی کی کوئی جگہ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲